Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

اب مریض عشق کو کیسا ٹھکانہ چاہیے

Chitra Bhardwaj suman (b. 1986)

اب مریض عشق کو کیسا ٹھکانہ چاہیے

آتش دل کو ہوا پر آشیانہ چاہیے

لگ گئیں ہیں داؤ پر سانسیں بساط عشق میں

اس طرف یا اس طرف طے ہو ہی جانا چاہیے

روح کو تیری ضرورت اس قدر ہے جان جاں

زیست کے خاطر ضروری آب و دانا چاہیے

دن ڈھلے ہی لوٹ آتے ہیں پرندے شاخ پر

ہو گئی اب رات تجھ کو لوٹ آنا چاہیے

اب تھکن تک جا چکی ہیں حسرتیں دیدار کی

خشک آنکھوں میں سمنؔ دریا سمانا چاہیے