Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے

Habib Jalib (1928–1993)

دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے

دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے

خامشی پر ہیں لوگ زیر عتاب

اور ہم نے تو بات بھی کی ہے

مطمئن ہے ضمیر تو اپنا

بات ساری ضمیر ہی کی ہے

اپنی تو داستاں ہے بس اتنی

غم اٹھائے ہیں شاعری کی ہے

اب نظر میں نہیں ہے ایک ہی پھول

فکر ہم کو کلی کلی کی ہے

پا سکیں گے نہ عمر بھر جس کو

جستجو آج بھی اسی کی ہے

جب مہ و مہر بجھ گئے جالبؔ

ہم نے اشکوں سے روشنی کی ہے