Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

گھٹا ہو باغ ہو پہلو میں اپنے یار جانی ہو

وفا لکھنوی

گھٹا ہو باغ ہو پہلو میں اپنے یار جانی ہو

جو یہ ساماں میسر ہو تو لطف زندگانی ہو

مزہ کیا خضر کی صورت جو عمر جاودانی ہو

ہم اس جینے سے باز آئے جو تنہا زندگانی ہو

گھٹا ہے ساقیا سامان وصل یار جانی ہو

لبالب ہر صراحی میں شراب ارغوانی ہو

خزاں میں کہتے ہیں پیر مغاں سے رند مشرب یوں

بہار آئی کہیں دور شراب ارغوانی ہو

کسی یوسف لقا پر دل جو آئے عہد پیری میں

نئے سر سے زلیخا کی صفت پھر نوجوانی ہو

مجھے شوق شہادت تشنہ لب لایا ہے مقتل میں

پلا دے آب خنجر پیاس اگر قاتل بجھانی ہو

وہ مجرم ہوں کہوں گا حشر میں اللہ سے رو کر

جہنم سے میں بچ جاؤں جو تیری مہربانی ہو

محبت ان بتان سنگ دل سے دیکھ کر کرنا

شب فرقت کی ایذا گر تجھے اے دل اٹھانی ہو

تری تصویر اے جاں کھینچ لے کیا تاب رکھتا ہے

نظر بھر کر اگر دیکھے تجھے بے ہوش مانی ہو

پئے جاتا ہوں خم کے خم وہ مے خانے میں مے کش ہوں

پلائے جا مجھے ساقی جہاں تک مے پلانی ہو

حباب بحر کی صورت نہیں دم بھر ثبات اس کو

مری نظروں میں پھر دنیائے دوں کیونکر نہ فانی ہو

کھڑا ہوں طور پر کب سے مجھے دیدار دکھلا دو

کلیم اللہ جب آئیں تو ان سے لن ترانی ہو

وفاؔ بہر خدا چھوڑو محبت ان حسینوں کی

بتوں کے ہجر میں ایسا نہ ہو ضائع جوانی ہو