Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ہاتھ رکھتے ہی تھا حال قلب مضطر آئینہ

منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

ہاتھ رکھتے ہی تھا حال قلب مضطر آئینہ

دست نازک ہے حسینوں کا مقرر آئینہ

بن گیا غماز شکل ان کی دکھا کر آئینہ

جو ہمارا راز دل تھا اب ہے ان پر آئینہ

توڑ کر دل تم نے کھویا امتیاز حسن بھی

اک تمہارے پاس تھا یا اب ہے گھر گھر آئینہ

دیکھنا ہے کس میں اچھی شکل آتی ہے نظر

اس نے رکھا ہے مرے دل کے برابر آئینہ

آئنہ رکھو لو کہ دونا لطف آئے وقت رنج

اس طرف تم اس طرف کھینچے ہو خنجر آئینہ

عکس سے اپنے کسی کے گرم جوشی قہر تھی

رہ گیا آخر پسینے میں نہا کر آئینہ

شوق خود بینی ستم نیندیں جوانی کی غضب

بے خبر سوتے ہیں وہ رکھا ہے منہ پر آئینہ

شوخیوں سے بن گیا بجلی کسی کا عکس بھی

اب تو ہاتھوں سے نکلتا ہے تڑپ کر آئینہ

یوں کہاں ممکن تھا حسن خاص کا دیدار عام

بن گئی آخر سراپا صبح محشر آئینہ

دیکھ لیں شاید نظرؔ وہ دیدۂ انصاف سے

لے چلو ٹوٹے ہوئے دل کا بنا کر آئینہ