Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

گھر کے گھبراتے نہ تھے ہجر کے آزاروں میں

میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی

گھر کے گھبراتے نہ تھے ہجر کے آزاروں میں

جب کہ طاقت تھی کبھی آپ کے بیماروں میں

لے کے ہم دل گئے کہتے یہ جفا کاروں میں

کون لیتا ہے اسے اتنے خریداروں میں

دی رہائی مجھے صیاد نے اے وائے نصیب

دخل جب فصل خزاں کا ہوا گلزاروں میں

میرے مرنے کا ہوا رنج ہر اک قیدی کو

کہ ہے کہرام بپا تیرے گرفتاروں میں

دست نازک سے مجھے جام دیا ساقی نے

آبرو بڑھ گئی اور آج سے مے خواروں میں

آتش ہجر سے کیا ڈر جو تری مرضی سے

رات کر دیں گے بسر لوٹ کے انگاروں میں

پھینک دینا نہ کہیں بھول کے ہنگام سحر

دل بھی لپٹا ہے انہیں سوکھے ہوئے ہاروں میں

نالۂ بلبل شیدا نہ جسے پھاند سکے

یہ بلندی تو نہیں باغ کی دیواروں میں

نکلا وہ تیر نگہ بھی تو یہ کہہ کر نکلا

میرا دامن نہ الجھ جائے کہیں خاروں میں

یوں سنائی گئی ہے اس کو خبر عالمؔ کی

مر گیا کوئی ترے تازہ گرفتاروں میں