Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

گھڑی گھڑی ہے ہمیں اپنے مہرباں کا خیال

رنج حیدرآبادی

گھڑی گھڑی ہے ہمیں اپنے مہرباں کا خیال

نہ کچھ زمیں کی خبر ہے نہ آسماں کا خیال

یہ بے خودی ہے کہ جس دن سے دل لگا بیٹھے

کہاں کا ہوش کہاں کی خبر کہاں کا خیال

اڑے ہوئے ہیں رقیبوں کے ہوش پہ اب تک

جو دل میں آپ کے آیا تھا امتحاں کا خیال

عدو سے ہنستے رہے رات بھر سر محفل

کیا نہ تم نے مرے چشم خوں فشا کا خیال

کسی کو دو نہ سر بزم بے دھڑک گالی

خدا کے واسطے رکھو ذرا زباں کا خیال

قدم جو بھول کے رکھیں رہ محبت میں

تو خضر کو بھی نہ ہو عمر جاوداں کا خیال

لگا نہ خلد میں بھی دل میں کیا بیاں کروں

وہاں بھی مجھ سے نہ چھوٹا ترے مکاں کا خیال

میں اس طرف کبھی رخ بھول کر نہیں کرتا

میں کیا بتاؤں جب آتا ہے پاسباں کا خیال

خدا کے واسطے مانو مرا کہا اے رنجؔ

خدا کے واسطے چھوڑو یہ ہے کہاں کا خیال