Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ہر چند دکھ دہی سے زمانے کو عشق ہے

Qaem Chandpuri (1722–1793)

ہر چند دکھ دہی سے زمانے کو عشق ہے

لیکن مرے بھی تاب کے لانے کو عشق ہے

آشفتہ سر ہیں یاں دل صد چاک بھی کئی

تنہا نہ تیری زلف سے شانے کو عشق ہے

افلاک بیٹھے جائیں تھے جس بوجھ کے تلے

آدم کے ویسے بار اٹھانے کو عشق ہے

وحشت کو اپنی شہر و بیاباں میں جا نہیں

عاقل کو اب دعا و دوانے کو عشق ہے

یارب بن آئی آدمی مر جائے پر نہ ہو

وہ رنج بد بلا جو کہانے کو عشق ہے

دل کو چھٹا وہیں سے پھنسایا تو زلف میں

اے عشق تیرے بات بڑھانے کو عشق ہے

قائمؔ ہوس سے گو کہ کہی سب نے یہ غزل

لیکن ترے ردیف بٹھانے کو عشق ہے