Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ہم اپنا جو قصہ سنانے لگے

میر مہدی مجروح

ہم اپنا جو قصہ سنانے لگے

وہ بولے کہ پھر سر پھرانے لگے

کہا تھا اٹھا پردۂ شرم کو

وہ الٹا ہمیں کو اٹھانے لگے

ذرا دیکھیے ان کی صناعیاں

مجھے دیکھ کر منہ بنانے لگے

کہا میں نے مل یا مجھے مار ڈال

وہ جھٹ آستینیں چڑھانے لگے

مجھے آتے دیکھا جوں ہی دور سے

قدم وار جلدی اٹھانے لگے

اٹھے وہ تو اک حشر برپا کیا

جو بیٹھے تو فتنہ اٹھانے لگے

غذا غم میں تھی میری خون جگر

اب اعدا کا بھی رشک کھانے لگے

کمال تعشق نہیں ہے ہنوز

ابھی سے وہ منہ کو چھپانے لگے

خفا ہو کے جب بے بلائے گیا

مجھے دیکھ کر مسکرانے لگے

غنیمت ہے اتنا تو اٹھا حجاب

کہ اب خواب میں بھی وہ آنے لگے

وہ دل کے اڑانے سے واقف نہ تھے

ہمیں تو یہ گھاتیں بتانے لگے

مگر ان پہ راز محبت کھلا

جو مجروحؔ سے بچ کے جانے لگے