Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ہزاروں کی جان لے چکا ہے یہ چہرہ زیر نقاب ہو کر

آسی غازی پوری

ہزاروں کی جان لے چکا ہے یہ چہرہ زیر نقاب ہو کر

مگر قیامت کرو گے برپا جو نکلو گے بے حجاب ہو کر

شناخت اوس کی ہو سہل کیوں کر کہ جب نہ تب بھیس اک نیا ہو

وہ دن کو خورشید ہو کے نکلے تو رات کو ماہتاب ہو کر

میں دل سے اس شیخ کا ہوں قائل کہ میکدے میں پڑھے تہجد

لگائے مسجد میں نعرے ہو حق کے محو دور شراب ہو کر

فراق میں اس قدر تردد ابھی تمہیں کچھ خبر نہیں ہے

بڑھے گی کچھ اور بے قراری وصال میں کامیاب ہو کر

نہ کر تو اتنی مذمت اس کی بہشت کی چیز ہے یہ واعظ

یہ بلکہ ہے جوش بحر رحمت اگرچہ آیا شراب ہو کر

وہ تھا بدن یا کوئی گل تر پھر اوس کی خوشبو وہ روح پرور

جدھر سے گزرے بسا وہ رستہ بہا پسینہ گلاب ہو کر

جناب ناسخؔ کی یہ ہدایت ہے یاد رکھنا تم اس کو آصیؔ