Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

جان آنکھوں میں رہی جی سے گزرنے نہ دیا

شیخ عبداللطیف تپش

جان آنکھوں میں رہی جی سے گزرنے نہ دیا

اچھی دیدار کی حسرت تھی کہ مرنے نہ دیا

کیا قیامت ہے ستم گار بھری محفل میں

دل چرا کر تری دزدیدہ نظر نے نہ دیا

مدتوں کش مکش یاس و تمنا میں رہے

غم نے جینے نہ دیا شوق نے مرنے نہ دیا

ناخدا نے مجھے دلدل میں پھنسائے رکھا

ڈوب مرنے نہ دیا پار اترنے نہ دیا

کوئی تو بات ہے جو غیر کے آگے اس نے

شکوہ کیسا کہ مجھے شکر بھی کرنے نہ دیا

خاک آرام کی خواہش ہو وطن سے باہر

جب ہمیں چین تپشؔ اپنے ہی گھر نے نہ دیا