Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ہم اپنی جان سے اے بت بہت بیزار بیٹھے ہیں

ماسٹر باسط بسوانی

ہم اپنی جان سے اے بت بہت بیزار بیٹھے ہیں

بھری برسات میں آکر پس دیوار بیٹھے ہیں

کریں کیا عرض مطلب خوف سے یاں جان جاتی ہے

لئے وہ ہاتھ میں کچھ اس طرح تلوار بیٹھے ہیں

پلٹ کر بستیوں سے یوں کہا دایہ نے شیریں سے

سنا کچھ اور اے بٹیا وہ تیشہ مار بیٹھے ہیں

ہوئے ہیں کارزار عشق میں ہم بے طرح زخمی

کہ شکل تیغ دل پر ابروئے خم دار بیٹھے ہیں

ہماری خوش نصیبی سے ہوا کچھ دال میں کالا

رقیب رو سیہ کو آج وہ پھٹکار بیٹھے ہیں

ستم گر دیکھ لینا پھٹ پڑیں گے غیر کے سر پر

نہیں بے وجہ ہم یوں صورت دیوار بیٹھے ہیں

کہا یہ آخری ہفتہ نے ہنس کر اہلکاروں سے

ذرا دیکھو مرے پیچھے میاں اتوار بیٹھے ہیں

سر محفل جو اس بت سے کبھی عرض تمنا کی

کہا چپکے سے چپ رہئے ابھی اغیار بیٹھے ہیں

اٹھا کر چوک میں سر شیخ جی نے ہنس کے فرمایا

بہت سے دشمن ایماں سر بازار بیٹھے ہیں