Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ہزاروں راز نہاں ہیں دہن کے پردے میں

شاہ اکبر داناپوری

ہزاروں راز نہاں ہیں دہن کے پردے میں

کروڑوں نکتہ ہیں اک اک سخن کے پردے میں

نہاں ہے شاہد مطلب سخن کے پردے میں

زبان بول رہی ہے دہن کے پردے میں

بسا ہے عطر محبت سے جامۂ ہستی

چھپا ہے کون گل اس پیرہن کے پردے میں

نکال لایا انہیں شوق خود نمائی کا

وہ ایسی شان سے بیٹھے تھے بن کے پردے میں

غضب کا پردہ نشیں ہے وہ شوخ ہرجائی

ہر انجمن میں ہے ہر انجمن کے پردے میں

کھلا سبب ہمیں لیلیٰ کی جامہ زیبی کا

کہ روح قیس ہے اس پیرہن کے پردے میں

دردن پہ جن کے تھے زربفت کے پڑے پردے

اس اس مکاں کے مکیں ہیں کفن کے پردے میں

جو دیکھا اہل بصیرت نے دونوں کو تو کہا

حضور ہی ہیں حسین و حسن کے پردے میں

نجات اہل گناہ کو کہیں نہیں اکبرؔ

عبث چھپا ہے تو جا کر کفن کے پردے میں