Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

جام لا جام کہ آلام سے جی ڈرتا ہے

اختر انصاری اکبرآبادی

جام لا جام کہ آلام سے جی ڈرتا ہے

اثر گردش ایام سے جی ڈرتا ہے

لب پہ اب عارض و گیسو کے فسانے کیا ہوں

فتنہ ہائے سحر و شام سے جی ڈرتا ہے

تجھ کو میں ڈھونڈھتا پھرتا ہوں در و بام سے دور

اب تجلئ در و بام سے جی ڈرتا ہے

گل کھلائے نہ کہیں فتنۂ دوراں کچھ اور

آج کل دور مے و جام سے جی ڈرتا ہے

نگہ مست کے قربان مری سمت نہ دیکھ

موجۂ بادۂ گلفام سے جی ڈرتا ہے

چھوڑ کر راہ میں بت خانے گزر جاتا ہوں

ہوش میں جلوۂ اصنام سے جی ڈرتا ہے

رات کی ظلمتیں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں

اخترؔ اپنا تو سر شام سے جی ڈرتا ہے