Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

جان جاتی ہے مری ان کو خبر کچھ بھی نہیں

منشی شیو پرشاد وہبی

جان جاتی ہے مری ان کو خبر کچھ بھی نہیں

تجھ میں او نالۂ جاں سوز اثر کچھ بھی نہیں

تیغ ابرو وہ دکھا کر یہی فرماتے ہیں

اس کے آگے جو نہ ہو سینہ سپر کچھ بھی نہیں

حالت نزع میں تم آئے ہو کیوں کر دیکھوں

نور آنکھوں میں اب اے نور نظر کچھ بھی نہیں

گو خطائیں نہیں ہیں کچھ مری پر سب کچھ ہیں

ظلم و جور آپ کے سب کچھ ہیں مگر کچھ بھی نہیں

تپ فرقت نے یہاں اپنا کیا کام تمام

بے خبر آج تلک تجھ کو خبر کچھ بھی نہیں

رات دن اس رخ و گیسو کا تصور ہے مجھے

مشغلہ اس کے سوا شام و سحر کچھ بھی نہیں

عارضی حسن پہ نازاں ہیں عبث یہ مہوش

رات بھر نور کا عالم ہے سحر کچھ بھی نہیں

منزل گور میں کیا دیکھیے ہم پر گزرے

غم عصیاں کے سوا زاد سفر کچھ بھی نہیں

کیوں یم اشک میں تو نے نہ ڈبویا مجھ کو

آبرو اب تری او دیدۂ تر کچھ بھی نہیں

ہے بجا ہیچ جو سمجھے ہیں اسے سب شاعر

غور سے دیکھتے ہیں تو وہ کمر کچھ بھی نہیں

عالم خواب میں کس طرح جہاں کو سمجھوں

کیوں یہ سب کچھ نظر آتا ہے اگر کچھ بھی نہیں

عاشقی کر کے نہ پھل پاؤ گے ہرگز وہبیؔ

نخل الفت میں بجز داغ ثمر کچھ بھی نہیں