Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ہنگامہ خیز دعوئ منصور ہو گیا

بیخود موہانی

ہنگامہ خیز دعوئ منصور ہو گیا

لب ہم نوائے خاطر مغرور ہو گیا

بزم خیال یار میں ہے محو آرزو

مجھ سے مرا خیال بہت دور ہو گیا

مٹنا تھا کب تراوش زخم جگر کا رنگ

ہاں رستے رستے زخم سے ناسور ہو گیا

تھا جلوہ گاہ یار مرا دامن نگاہ

جس ذرہ پر نگاہ پڑی طور ہو گیا

بس اے سکون یاس زیادہ ستم نہ کر

وہ اضطراب شوق تو کافور ہو گیا

ناکامیٔ ازل کی ستم رانیاں نہ پوچھ

میں اپنے اختیار سے مجبور ہو گیا

اف اضطراب شوق کی حسرت فروشیاں

حسن حیا پرست بھی مجبور ہو گیا

میں اور یہ سر نوشت ملامت کی جا نہیں

میں اس کے انتخاب سے مجبور ہو گیا

ہنگامہ ہائے غلغلۂ ما و من نہ پوچھ

بیخودؔ بھی اپنے عہد کا منصور ہو گیا