Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ہوئے آج بوڑھے جوانی میں کیا تھے

مرزا محمد تقی ہوس

ہوئے آج بوڑھے جوانی میں کیا تھے

جب اٹھے تھے زانو سے ہاتھ آشنا تھے

جہاں کی تو ہر چیز میں اک مزہ تھا

نہ سمجھے کہ کس شے کے ہم مبتلا تھے

نہ کافر سے خلعت نہ زاہد سے الفت

ہم اک بزم میں تھے پہ سب سے جدا تھے

نہ تھا میرے جنگل میں آزاد کوئی

بگولے بھی پابند زلف ہوا تھے

مزار غریب تأسف کی جا ہے

وہ سوتے ہیں پھرتے جو کل جا بہ جا تھے

بنا کر بگاڑا ہمیں کیوں جہاں میں

یہ سب حرف کیا سہو کلک قضا تھے

کئے آخری نالہ دو چار میں نے

وہی نالہ بانگ شکست درا تھے

خدا جانے دنیا میں کس کو تھی راحت

ہوسؔ ہم تو جینے سے اپنے خفا تھے