Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

یاد ہے روز ازل اس نے کہا کیا کیا کچھ

مرزا مسیتابیگ منتہی

یاد ہے روز ازل اس نے کہا کیا کیا کچھ

بر خلاف اس کے یہاں تو نے کیا کیا کیا کچھ

حور دی خلد دیا قصر دیا رہنے کو

مجھ گنہ گار کو خالق نے دیا کیا کیا کچھ

سالہا سال بہار چمن عالم نے

رنگ دکھلائے ہیں ہم کو بخدا کیا کیا کچھ

گہ خزاں آئی گلستاں میں کبھی باد بہار

سامنے آنکھوں کے بندے کے ہوا کیا کیا کچھ

تہمت جرم و خطا حرص و ہوا غفلت دل

ہم نے بازار سے ہستی کے لیا کیا کیا کچھ

آسمان مہر فلک روئے زمیں عرش بریں

پیشتر اس سے خدا جانے ہوا کیا کیا کچھ

باب فردوس و در روضۂ رضواں زاہد

بند ان آنکھوں کے ہوتے ہی کھلا کیا کیا کچھ

نزع کے وقت میں پوچھومثال کسی منعم سے

ساتھ کیا اپنے لیا اور رہا کیا کیا کچھ

وقت دل جانے کے ہرگز نہ خبردار کیا

اب سمجھاتی ہے یہ فکر رسا کیا کیا کچھ

شدت رنج و الم صدمۂ دل سوز جگر

فرقت یار میں مجھ پر نہ ہوا کیا کیا کچھ

دیر کو پوجا حرم کو کئے گاہے سجدے

کر لیا زیست میں بے جا و بجا کیا کیا کچھ

جو تلافی نہ ہو محشر میں عجب ہے اس کا

خود ہیں معقول کہ یاں ہم نے کیا کیا کیا کچھ

گوش پر جام کے منہ رات کو رکھ کر اپنا

کس کو معلوم ہے شیشے نے کہا کیا کیا کچھ

داغ دل خون جگر آتش غم درد فراق

ہم کو بھی عشق کی دولت سے ملا کیا کیا کچھ

منتہیؔ زور بدن قوت دل چالاکی

ایک آنے سے ضعیفی کے گیا کیا کیا کچھ