Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

یہ تجھ سے آشنا دنیا سے بیگانے کہاں جاتے

مخمور دہلوی

یہ تجھ سے آشنا دنیا سے بیگانے کہاں جاتے

ترے کوچے سے اٹھتے بھی تو دیوانے کہاں جاتے

قفس میں بھی مجھے صیاد کے ہاتھوں سے ملتے ہیں

مری تقدیر کے لکھے ہوئے دانے کہاں جاتے

نہ چھوڑا ضبط نے دامن نہیں تو تیرے سودائی

ہجوم غم سے گھبرا کر خدا جانے کہاں جاتے

میں اپنے آنسوؤں کو کیسے دامن میں چھپا لیتا

جو پلکوں تک چلے آئے وہ افسانے کہاں جاتے

تمہارے نام سے منسوب ہو جاتے ہیں دیوانے

یہ اپنے ہوش میں ہوتے تو پہچانے کہاں جاتے

اگر کوئی حریم ناز کے پردے اٹھا دیتا

تو پھر کعبہ کہاں رہتا صنم خانے کہاں جاتے

نہیں تھا مستحق مخمورؔ رندوں کے سوا کوئی

نہ ہوتے ہم تو پھر لبریز پیمانے کہاں جاتے