Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

یہ آنکھیں کھلیں جب سے کیا کیا نہ دیکھا

شہیر مچھلی شہری

یہ آنکھیں کھلیں جب سے کیا کیا نہ دیکھا

مگر دیکھنا جس کو چاہا نہ دیکھا

یہ تنہائ دشت غربت کی حد ہے

کبھی دھوپ میں اپنا سایا نہ دیکھا

بتوں کی جگہ اور عاشق کے دل میں

یہی سنگ و شیشہ میں یارا نہ دیکھا

اگر دید سے کام ہی کچھ نہ نکلا

تو کیا فائدہ جیسے دیکھا نہ دیکھا

لہو سے بھری اپنی چٹکی تو دھوئی

مگر تم نے میرا کلیجا نہ دیکھا

برا مان جاتیں وہ بیمار آنکھیں

یہ اچھا ہوا تجھ کو اچھا نہ دیکھا

مری چشم پر آب اب تم نے دیکھی

نہ کہنا کہ کوزے میں دریا نہ دیکھا

یہاں دیر میں کی زیارت بتوں کی

وہاں کچھ حرم میں نہ پایا نہ دیکھا