Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

روندتے جاؤ گزر گاہوں کو

تصدق حسین خالد

روندتے جاؤ گزر گاہوں کو

سر اٹھائے ہوئے

سینہ تانے

کانپ جائیں در و دیوار

قدم یوں اٹھیں

دھڑکنیں دل کی بنیں بانگ رحیل

یہ بغاوت ہے

بغاوت ہی سہی

ہم نے انجام وفا دیکھ لیا

خس و خاشاک بہاتا ہوا اپنا سیلاب

اب جو اٹھا ہے تو بڑھتا ہی چلا جائے گا

یہ زر و سیم کے تودوں سے نہیں رک سکتا

گولیاں

کس کو ڈراتے ہو

یہ ڈس سکتی ہیں

ڈس جانے دو

بے نوا سست قدم واماندہ

سال آتے تھے چلے جاتے تھے

وقت کے دامن خوش رنگ پہ کالے دھبے

خشک لب ہانپتے بے بس ایام

راہ کے بیچ میں الجھے ہوئے رہ جاتے تھے سستانے کو

گھبرائے ہوئے

اب تو ہر سانس دہکتا ہوا انگارہ ہے

دل کہ برفاب تھے اب آتش سیال کا فوارہ ہیں

برق رفتار ہے وقت

اور ہم وقف سے دو چار قدم آگے ہیں

چیخ اٹھیں قرنائیں

جھانجھ بجیں

دھوم ہو نقاروں کی

مسکراتے ہوئے گاتے ہوئے بڑھتے جاؤ

پھینکتے ہیں ہمیں تاروں پہ کمند

خیمہ زن ہونا ہے مریخ کے میدانوں میں