Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

یہ راز سوز محبت کبھی عیاں نہ ہوا

وفا لکھنوی

یہ راز سوز محبت کبھی عیاں نہ ہوا

تمام خانۂ دل جل گیا دھواں نہ ہوا

کبھی نہ خانۂ دل میں مرے وہ بت آیا

مکین حیف ہے زینت دہ مکاں نہ ہوا

ہوا میں سوز تپ غم سے جل کے خاکستر

پر اس طرح سے کہ پیدا ذرا دھواں نہ ہوا

نہ بت کدے میں نظر آیا تو نہ کعبے میں

خراب تیرے لئے میں کہاں کہاں نہ ہوا

دوئی کا ہم نے تو دل سے اٹھا دیا پردہ

ہزار پردوں میں پر وہ صنم نہاں نہ ہوا

حباب وار ہے بحر جہاں کے نشوونما

نہ ہو بلا سے اگر قبر کا نشاں نہ ہوا

صفائے قلب سے دیکھا کیا میں جلوۂ حسن

حجاب مانع نظارۂ بتاں نہ ہوا

ملایا خاک میں جس کو فروغ پر دیکھا

ستم شعار کوئی تجھ سا آسماں نہ ہوا

یہ کس کے بار الم نے اسے خمیدہ کیا

جھکا کچھ ایسا کہ سیدھا پھر آسماں نہ ہوا

بغل میں یار پری وش ہو دور ساغر ہو

ہمیں نصیب کسی روز یہ سماں نہ ہوا

بہار میں نہ چلا ضعف سے جنوں کا زور

کہ اپنا پیرہن تن یہ دھجیاں نہ ہوا

اگر کہا تو کہا اس کو نقطۂ موہوم

تیرے دہن پہ دہن کا کسی گماں نہ ہوا

ہوس یہ تھی ہمہ تن صرف شکر حق ہوئے

مرے بدن کا ہر اک رونگٹا زباں نہ ہوا

ہوا ہے سرمۂ چشم بتاں پس مردن

وفاؔ غبار بھی اپنا تو رائیگاں نہ ہوا