Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

جا بیٹھتے ہو غیروں میں غیرت نہیں آتی

واجد علی شاہ

جا بیٹھتے ہو غیروں میں غیرت نہیں آتی

اس وقت مری جان مروت نہیں آتی

نزدیک بھی جا کر نہ ملا پردہ نشیں سے

جا دور ہو اے دل تجھے چاہت نہیں آتی

اک ہم ہیں کہ ہیں نام مبارک پہ تصدق

تم کو تو کبھی دیکھ کے الفت نہیں آتی

یا رنج ہے یا ہجر ہے یا حزن ہے یا غم

کچھ شکل بنا کر تو مصیبت نہیں آتی

کیا راہ روی یار کی سیکھے ہے تو اس سال

اس طرح گئی جسم سے طاقت نہیں آتی

ہر شے کے لئے ظرف ہے درکار جہاں میں

کم ظرف کے نزدیک تو ثروت نہیں آتی

کلکتے نے نابود کیا خواب خوشی کو

پل بھر مجھے اس شہر میں راحت نہیں آتی

رہتا ہوں خیال رخ زیبا میں شب و روز

اے جان تصور میں وہ صورت نہیں آتی

کھلتے ہیں گل شعر ہر اک روز مہ و سال

اخترؔ مرے گلزار پہ آفت نہیں آتی