Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

جاؤں کیا منہ لے کے میں وہ بد گماں ہو جائے گا

راغب بدایونی

جاؤں کیا منہ لے کے میں وہ بد گماں ہو جائے گا

رنگ کے اڑنے سے عشق اس پر عیاں ہو جائے گا

عیش بزم بے خودی جوش فغاں ہو جائے گا

ہم کہاں ہوں گے جو راز غم عیاں ہو جائے گا

دوسرا عالم بنے تو ہو سکے تسکین حسن

اب ہے جتنا یہ تو صرف امتحاں ہو جائے گا

تا اجل پہنچائے گی یہ ناتوانی ہجر میں

ضعف بڑھتے بڑھتے زور ناتواں ہو جائے گا

میری خاموشی کو ظالم جور بے جا سے نہ چھیڑ

ورنہ ضبط دل تری ضد سے فغاں ہو جائے گا

شوق سے غیروں میں جائے میں نہ ہوں گا بد گماں

خوئے بد سے خود وہ اپنا پاسباں ہو جائے گا

دل نشیں ہے عالم ذوق اسیری کا خیال

اب دل صیاد اپنا آشیاں ہو جائے گا

غم سے میرے گھر میں گنجائش نہیں ہے عیش کی

نغمہ خواں بھی آئے گا تو نوحہ خواں ہو جائے گا

موسم باراں میں کیوں ہے دشت کا قصد اے جنوں

آج کل تو دشت اپنا ہی مکاں ہو جائے گا

خوبئ گفتار سے سمجھے گا کون اس کا جواب

حشر سارا محو انداز بیاں ہو جائے گا

کیا یقیں تھا ہم جو پہنچیں گے وہاں اے جوش اشک

وہم اپنا بڑھ کے اس کا پاسباں ہو جائے گا

کہہ سکے گا کچھ بھی اے راغبؔ نہ اس خاموش سے

بے دہن کے سامنے تو بے زباں ہو جائے گا