Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

جفا پہ شکر کا امیدوار کیوں آیا

شوق قدوائی

جفا پہ شکر کا امیدوار کیوں آیا

مری وفا کا اسے اعتبار کیوں آیا

یہ دل کی بات ہی منہ سے ادا نہیں ہوتی

میں کیا کہوں کہ یہاں بار بار کیوں آیا

خیال پرسش محشر سے وہ ہوا مغموم

نظر کے سامنے میرا مزار کیوں آیا

کہاں وہ ہاتھ میں پاؤں حسین لڑکوں کے

سڑی نہیں تو سوئے کوہسار کیوں آیا

تڑپ تھی مر کے بھی میت پہ شاید آیا وہ

نہیں یہ بات تو دل کو قرار کیوں آیا

ہوا میں خاک تو وہ لڑ رہا ہے آندھی سے

کہ تیرے ساتھ مرے گھر غبار کیوں آیا

وہ انتظار کی لذت بھی لے گیا اے شوقؔ

ہوا کے گھوڑے پہ ظالم سوار کیوں آیا