Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

جفائیں ہوتی ہیں گھٹتا ہے دم ایسا بھی ہوتا ہے

امداد امام اثر

جفائیں ہوتی ہیں گھٹتا ہے دم ایسا بھی ہوتا ہے

مگر ہم پر جو ہے تیرا ستم ایسا بھی ہوتا ہے

عدو کے آتے ہی رونق سدھاری تیری محفل کی

معاذ اللہ انساں کا قدم ایسا بھی ہوتا ہے

رکاوٹ ہے خلش ہے چھیڑ ہے ایذا پہ ایذا ہے

ستم اہل وفا پر دم بدم ایسا بھی ہوتا ہے

حسینوں کی جفائیں بھی تلون سے نہیں خالی

ستم کے بعد کرتے ہیں کرم ایسا بھی ہوتا ہے

دل مہجور آخر انتہا ہے ہر نحوست کی

کبھی سعدین ہوتے ہیں بہم ایسا بھی ہوتا ہے

نہ کر شکوہ ہماری بے سبب کی بد گمانی کا

محبت میں ترے سر کی قسم ایسا بھی ہوتا ہے

نہ ہو درد جدائی سے جو واقف اس کو کیا کہیے

ہمیں وہ دیکھ کر کہتے ہیں غم ایسا بھی ہوتا ہے

بتوں کے ملنے جلنے پر نہ جانا اے دل ناداں

بڑھا کر ربط کر دیتے ہیں کم ایسا بھی ہوتا ہے

ہمیں بزم عدو میں وہ بلاتے ہیں تمنا سے

کرم ایسا بھی ہوتا ہے ستم ایسا بھی ہوتا ہے

جگہ دی مجھ کو کعبے میں خدائے پاک نے زاہد

تو کہتا تھا کہ مقبول حرم ایسا بھی ہوتا ہے

ہوا کرتا ہے سب کچھ اے اثرؔ اس کی خدائی میں

کریں دعویٰ خدائی کا صنم ایسا بھی ہوتا ہے