Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

حسن کی زبان سے

وحید الدین سلیم

جہاں میں ہے ضیا مری میں حسن جلوہ کار ہوں

میں رونق اس چمن کی ہوں میں فصل نو بہار ہوں

میں زیب کائنات ہوں میں فخر روزگار ہوں

میں شاہد نہفتہ کا جمال آشکار ہوں

کہ آئینے میں دہر کے میں عکس کردگار ہوں

کلیم کو میں اپنا رخ نہ بے خطر دکھا سکا

سراغ میرے نور کا نہ کوہ طور پا سکا

نہ میں نظر میں آ سکا نہ عقل میں سما سکا

خیال میرے اوج پر نہ پر لگا کے جا سکا

میں حصن بے شکست ہوں میں راہ بے گزار ہوں

پڑی ہے اک خفیف سی نجوم پر کرن مری

کہ رکھتی ہے طواف میں سدا انہیں لگن مری

چھپی حجاب قدس میں ہے شمع انجمن مری

ستارے جل کے خاک ہوں جو دیکھ لیں پھبن مری

میں گنج آب و تاب ہوں میں بحر نور و نار ہوں

یہ چاندنی کی ٹھنڈکیں یہ دھوپ کی حرارتیں

یہ صبح کی صباحتیں یہ شام کی ملاحتیں

زمین کی یہ زینتیں فلک کی یہ لطافتیں

یہ بجلیوں کی شوخیاں یہ بادلوں کی رنگتیں

یہ رنگ روپ ہیں مرے میں ان میں آشکار ہوں

ہر ایک شاخسار میں مجھی سے آب و رنگ ہے

پھپکتے ہیں درخت جو یہ میری ہی امنگ ہے

پھدکتے ہیں پرند سب مجھی سے یہ ترنگ ہے

کرشمے دیکھ کر مرے ہر ایک عقل دنگ ہے

ہیں کھیل نت نئے مرے میں وہ طلسم کار ہوں

گلوں کے رنگ رنگ سے عیاں ہیں جھلکیاں مری

چمن کے غنچے غنچے میں شمیم ہے نہاں مری

زباں پہ پتے پتے کی رواں ہے داستاں مری

سرنگ پود پود کی جڑوں میں ہے دواں مری

میں روح سبزہ زار ہوں میں نازش بہار ہوں