Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

حسرت اے جاں شب جدائی ہے

گویا فقیر محمد

حسرت اے جاں شب جدائی ہے

مژدہ اے دل کہ موت آئی ہے

تجھ سے مغرور کی جھکی گردن

پھر بھی اک شان کبریائی ہے

اس نے تلوار کو سنبھالا ہے

دیکھیے کس کی موت آئی ہے

پھر گیا جب سے وہ صنم بہ خدا

ہم سے برگشتہ اک خدائی ہے

بات سیدھی بھی وہ نہیں کرتا

کج ادائی سے کج ادائی ہے

آپ کو جانتا ہے آئینہ

صاف یہ اس کی خود نمائی ہے

تم مرے کج کلاہ کو دیکھو

یہ بھلا کس میں میرزائی ہے

دل میں آتا ہے راہ چشم سے وہ

خوب یہ راہ آشنائی ہے

ملے حسرت سے ہاتھ دیکھ کے حور

اے پری تیری وہ کلائی ہے

شانہ اس کا ہے پنجۂ خورشید

واہ کیا پنجۂ حنائی ہے

زاہدو قدرت خدا دیکھو

بت کو بھی دعوی خدائی ہے

ہاتھ پہنچا نہ پائے قاتل تک

طالعوں کی یہ نارسائی ہے

کعبے جانے سے منع کرتے ہیں

کیا بتوں کے ہی گھر خدائی ہے

حسن نے ملک دل کیا تاراج

حضرت عشق کی دہائی ہے

منہ ہے گویاؔ کا اس کا بوسہ لے

بات دشمن نے یہ بنائی ہے