Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

حجاب راز فیض مرشد کامل سے اٹھتا ہے

شیر سنگھ ناز دہلوی

حجاب راز فیض مرشد کامل سے اٹھتا ہے

نظر حق آشنا ہوتی ہے پردہ دل سے اٹھتا ہے

جلا جاتا ہوں بار سوز غم مشکل سے اٹھتا ہے

وہ اشکوں سے نہیں بجھتا جو شعلہ دل سے اٹھتا ہے

کہاں خنجر بھی دست ناوک قاتل سے اٹھتا ہے

نزاکت سے حنا کا بار بھی مشکل سے اٹھتا ہے

یہ کس نے ڈال دی بحر تلاطم خیز میں کشتی

یہ شور ہرچہ باد اباد کیوں ساحل سے اٹھتا ہے

کشیدہ جس سے تم ہوتے ہو کوئی رخ نہیں کرتا

گراتے ہو نظر سے تم جسے مشکل سے اٹھتا ہے

یہ آنسو کسمپرسی کس کے ماتم میں بہاتی ہے

جنازہ آج کس کا کوچۂ قاتل سے اٹھتا ہے

مگر تاثیر پیدا ہو گئی مجنوں کے نالوں میں

کہ پردہ آج دست لیلی محمل سے اٹھتا ہے

رخ بے پردہ ان کا یاد آتا ہے شب ہجراں

حجاب ابر جب روئے مہ کامل سے اٹھتا ہے

لگا دی آتش خاموش کیا سوز محبت نے

الٰہی خیر دود آہ سوزاں دل سے اٹھتا ہے

کیا شرمندہ اتنا سخت جانی نے نزاکت سے

خجالت سے سر ان کے سامنے مشکل سے اٹھتا ہے

کلیجہ تھام لیں دیدار جاناں دیکھنے والے

بس اب پردہ رخ رشک مہ کامل سے اٹھتا ہے

چلے احباب آغوش لحد میں چھوڑ کر مجھ کو

کہ ہمدردی کا جذبہ پہلی ہی منزل سے اٹھتا ہے