Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

حسن ان کا اپنے ذوق دید میں پاتا ہوں میں

علی منظور حیدرآبادی

حسن ان کا اپنے ذوق دید میں پاتا ہوں میں

سامنے ہو کر وہ چھپتے ہیں تڑپ جاتا ہوں میں

عشرت جلوہ بھی ہو جائے جہاں حیرت زدہ

اے خیال دوست اس منزل پہ گھبراتا ہوں میں

دیکھتا ہوں اپنے غم خواروں کی جب بے دردیاں

حسن بے پردہ کی رہ رہ کر قسم کھاتا ہوں میں

انتظار اس کا ہے کتنا جاں گسل کیونکر کہوں

خط میں جس کا نام ہی لکھ کر تڑپ جاتا ہوں میں

کب سنبھلنے دے گی غش سے ان کی چشم برق پاش

مژدہ بادائے بے خودی آتے ہیں وہ جاتا ہوں میں

بے خیالی میں کبھی اپنی زبان حال سے

خستہ حالی کے مزے ان کو بھی سمجھاتا ہوں میں

آہ اب تک کی نہیں سیر بہارستان دل

اک خیالی رو میں اے ہمدم بہا جاتا ہوں میں

حیرت افزا ہے مرا عشق محبت آفریں

خود ہی اب مضطر نہیں ان کو بھی تڑپاتا ہوں میں

راستہ چھوڑ اے تغافل میرے گھر آتے ہیں وہ

رہبری کر اے تمنا ان کے گھر جاتا ہوں میں

حیرت مشق تصور کھو نہ دے مجھ کو کہیں

سامنے اپنے تجھے اے دل نشیں پاتا ہوں میں

لا رہی ہے ان کی چشم لطف عشرت کے پیام

دیکھ اے منظورؔ اب کیسا نظر آتا ہوں میں