Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

حال انجام سے پیری میں خبردار ہوئے

منشی ٹھاکر پرساد طالب

حال انجام سے پیری میں خبردار ہوئے

حیف صد حیف کہ اب خواب سے بیدار ہوئے

کس طرح خانہ نشینی سے نہ گھبرا جائیں

آدمی ہم نہ ہوئے نقطۂ پرکار ہوئے

خانۂ چشم میں رکھا نہ بصارت نے قدم

بند جس دن سے ترے روزن دیوار ہوئے

ہے مرے پیش نظر اب بھی تمہارا بچپن

مجھ سے بتلاؤ کہ تم کب سے طرحدار ہوئے

نفع کیا پہونچے کسی کو جو تونگر ہو بخیل

کیا عنادل کو ملا پھول جو زردار ہوئے

پست ہمت ہوئی موسیٰ کی حقیقت سن کر

بھول کر ہم نہ کبھی طالب دیدار ہوئے

موقع دید جب آیا تو نگہ خیرہ ہوئی

مردم دیدہ عجب وقت میں بیمار ہوئے

شیشہ سے بن کے پری بنت عنب جب نکلی

دیکھ کر جامے سے باہر وہیں مے خوار ہوئے

وصل میں تلخیٔ فرقت کی تلافی یہ ہوئی

لب شیرین صنم مجھ سے شکر بار ہوئے

منتشر فکر معیشت سے ہوئے ہوش و حواس

طائر عقل رسا پر ترے بے کار ہوئے

حشر میں عیش کے ساماں ہوئے دشمن طالبؔ

یار غار اپنے جو دنیا میں تھے اغیار ہوئے