Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

خوگر لذت ہوں میں کس شوخ کی تعزیر کا

منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

خوگر لذت ہوں میں کس شوخ کی تعزیر کا

دل کو حسرت ہے کہ پہلو ڈھونڈئیے تقصیر کا

تھا مرا ہنگامۂ وحشت ازل سے پیشتر

عرش کی زنجیر ٹکڑا ہے مری زنجیر کا

مر گیا زنداں میں جب میں وحشیٔ آتش نفس

بجھ گیا شعلہ چراغ خانۂ زنجیر کا

سخت جانی سے دل مضطر جو تڑپا وقت قتل

بن گیا سنگ فساں قاتل تری شمشیر کا

ہو کے بسمل آرزوئے گفتگو قاتل سے ہے

ہر دہان زخم نقشہ ہے لب تقریر کا

اتنی ہے مشق تصور انتظار قتل میں

مردمک ہے آنکھ میں جوہر تری شمشیر کا

جان کر ٹھنڈی ہوا وہ چین سے سوتے تو ہیں

دم بھروں کیوں کر نہ آہ سرد بے تاثیر کا

ہوتا ہے انسان پیدا واسطے فریاد کے

یہ اشارہ ہے سریر خامۂ تحریر کا

روح آ جاتی ہے تن میں تیغ عریاں دیکھ کر

مرغ جاں بلبل ہے باغ جوہر شمشیر کا

آج تک آواز آتی ہے دہان گور سے

ہے یہ مدفن کشتۂ تیغ لب تقریر کا

اور دونا غم اٹھایا کی مٹانے کی جو فکر

داغ حسرت ہو گیا لکھا مری تقدیر کا

رفتہ رفتہ یوں گھلایا قید میں غم نے نظرؔ

طوق گردن پاؤں میں حلقہ بنا زنجیر کا