Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

خوں کے پیاسے ہیں وہاں ابروئے خم دار جدا

شاہ اکبر داناپوری

خوں کے پیاسے ہیں وہاں ابروئے خم دار جدا

تیز کرتی ہے چھری یاں مژۂ یار جدا

اے صنم بہر خدا تو نہ ہو زنہار جدا

موت ہی ہے جو مسیحا سے ہو بیمار جدا

رخ روشن سے ہوں کیا ابروئے خم دار جدا

صبح محشر سے نہ ہوگی یہ شب تار جدا

تو کہے تو ابھی سر کاٹ کے رکھ دیتے ہیں

ہم کسی حال میں تجھ سے نہیں اے یار جدا

باغ عالم میں کسے عشق ان آنکھوں کا نہیں

میں ہوں بیمار جدا نرگس بیمار جدا

اس سے کچھ خوف نہیں اس سے ہے اندیشۂ مرگ

رنجش خلق جدا رنجش دل دار جدا

خاک بھی اس سے نہ ہو اس سے ہو محشر برپا

کبک کی چال جدا یار کی رفتار جدا

ابھی ہو جائے زمیں ہمسر چرخ انجم

کفش سے تیرے ستارے ہوں جو دو چار جدا

ایک دن وصل ہی ہو جائے گا عاشق کا ترے

مجھ سے ہوتا ہے جو اے یار تو ہر بار جدا

ایک گل باغ جہاں میں نہیں تجھ سا بخدا

سب حسینوں سے روش ہے تری اے یار جدا

کون سی شکل ہے اب زیست کی میری اکبرؔ

صدمۂ ہجر جدا طعنۂ اغیار جدا