Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

خوبی کا تیری بسکہ اک عالم گواہ ہے

مرزا علی لطف

خوبی کا تیری بسکہ اک عالم گواہ ہے

اپنی بغیر دیکھے ہی حالت تباہ ہے

عالم سنا جو ناز کا ہے اس سے الاماں

انداز گفتگو سے خدا کی پناہ ہے

تیوری کے ڈھب ہیں اور نگہ کے ہزار ڈول

چتون کے لاکھ رنگ غرض واہ واہ ہے

ناخن یہ دل ہلال ہے ابرو کے رشک سے

مکھڑے کا داغ رکھتا کلیجے پہ ماہ ہے

خوں ریز تیری چشم کو بتلاتے ہیں ولے

چتون میں ساتھ کہتے ہیں پھر عذر خواہ ہے

خوبی کا تیرے بالوں کی مذکور ہے جہاں

سنبل کا نام اس جگہ اک رو سیاہ ہے

دیتا ہے تیری قامت دلجو کا جو پتا

بے ساختہ وہ کھینچتا اک دل سے آہ ہے

گو لطفؔ خفتہ بخت کے آؤ نہ خواب میں

لیکن ترے خیال کو نت دل میں راہ ہے