Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

در پردہ ستم ہم پہ وہ کر جاتے ہیں کیسے

کرامت علی شہیدی

در پردہ ستم ہم پہ وہ کر جاتے ہیں کیسے

گر کیجے گلہ صاف مکر جاتے ہیں کیسے

آنے میں تو سو طرح کی صحبت تھی شب وصل

دیکھیں گے پر اب اٹھ کے سحر جاتے ہیں کیسے

رنجش کا مری پاس نہیں آپ کو مطلق

برہم تجھے ہم دیکھ کے ڈر جاتے ہیں کیسے

غصہ میں نیا رنگ نکالے ہیں پری رو

جوں جوں یہ بگڑتے ہیں سنور جاتے ہیں کیسے

اس صاحب عصمت کو یہی سوچ ہے ہر صبح

بے وجہ مرے بال بکھر جاتے ہیں کیسے

ایام مصیبت کے تو کاٹے نہیں کٹتے

دن عیش کے گھڑیوں میں گزر جاتے ہیں کیسے

وو وقت تو آنے دے بتا دیں گے شہیدیؔ

بن آئے کسی شخص پہ مر جاتے ہیں کیسے