Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

درد کا میرے مداوا وہ کریں یا نہ کریں

وفا لکھنوی

درد کا میرے مداوا وہ کریں یا نہ کریں

میں ہوں مشکور دم نزع جو پردا نہ کریں

مے سے لبریز عنایت جو وہ پیمانہ کریں

واعظا نوش اسے رند کریں یا نہ کریں

عشق صادق جو ذرا اپنا اثر دکھلا دے

بے حجاب آئیں نظر وہ کبھی پردا نہ کریں

فصل گل آئے بھی صیاد اگر گلشن میں

ہم وہ بلبل ہیں رہائی کی تمنا نہ کریں

تیرے کوچے میں جو مل جائے جگہ مرقد کی

باغ فردوس کی عشاق تمنا نہ کریں

جلوہ گر دل میں ہے تو جن کے کسی صورت وہ

رخ حرم کا نہ کریں عزم کلیسا نہ کریں

تیرے کوچے میں میسر ہے جنہیں روز طواف

کعبے کی سمت وہ بھولے سے بھی سجدہ نہ کریں

اس کا دیدار کسی طرح نہیں ممکن ہے

شکل آئینہ جو ہم دل کو مصفا نہ کریں

یار بالیں پہ ہے ٹھہریں ملک الموت ذرا

روح کے قبض کا کچھ دیر ارادہ نہ کریں

دم کا مہمان ہوں دم لب پہ ہے اے جان جہاں

آپ گھر جانے کا اس وقت ارادہ نہ کریں

مرتے دم نام ترا منہ سے نکل جائے اگر

پھر نکیرین لحد میں کوئی جھگڑا نہ کریں

دیر و کعبہ تو حقیقت میں ہیں اس کے گھر میں

باہمی گبر و مسلماں کوئی جھگڑا نہ کریں