Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

درد مندوں سے نہ پوچھو کہ کدھر بیٹھ گئے

میر شمس الدین فقیر

درد مندوں سے نہ پوچھو کہ کدھر بیٹھ گئے

تیری مجلس میں غنیمت ہے جدھر بیٹھ گئے

ہے غرض دید سے یاں کام تکلف سے نہیں

خواہ ادھر بیٹھ گئے خواہ ادھر بیٹھ گئے

دیکھا ہووے گا مرے اشک کا طوفاں تم نے

لاکھ دیوار گرے سینکڑوں گھر بیٹھ گئے

کس نظر ناز نے اس باز کو بخشی پرواز

سینکڑوں مرغ ہوا پھاند کے پر بیٹھ گئے

کم ہے آواز ترے کوچہ کے باشندوں کی

نالہ کرنے سے گلے ان کے مگر بیٹھ گئے

مفت اٹھنے کے نہیں یار کے کوچہ سے فقیرؔ

جب کہ بستر کو جما کھول کمر بیٹھ گئے