Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

دریا میں ڈوب جاوے کہ یا چاہ میں پڑے

Mir Hasan (1727–1786)

دریا میں ڈوب جاوے کہ یا چاہ میں پڑے

اے عشق پر نہ کوئی تری راہ میں پڑے

مت پوچھ جور غم سے دل ناتواں کا حال

بجلی تو دیکھی ہوگی کبھی کاہ میں پڑے

اک دم بھی دیکھ سکتا نہیں ہم کو اس کے پاس

خاک اس فلک کے دیدۂ بد خواہ میں پڑے

جو دوستی کے نام سے رکھتا ہو دشمنی

آ جا کہیں شتاب کہ مانند نقش پا

تکتے ہیں راہ تیری سر راہ میں پڑے

جلوے دو چند ہوویں شب ماہ کے ابھی

اس ماہرو کا عکس اگر ماہ میں پڑے

سلگے ہے نیم سوختہ جیسے دھوئیں کے ساتھ

جلتے ہیں یوں ہم اپنی حسنؔ آہ میں پڑے