Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

درد کو رہنے بھی دے دل میں دوا ہو جائے گی

حکیم محمد اجمل خاں شیدا

درد کو رہنے بھی دے دل میں دوا ہو جائے گی

موت آئے گی تو اے ہمدم شفا ہو جائے گی

ہوگی جب نالوں کی اپنے زیر گردوں بازگشت

میرے درد دل کی شہرت جا بجا ہو جائے گی

کوئے جاناں میں اسے ہے سجدہ ریزی کا جو شوق

میری پیشانی رہین نقش پا ہو جائے گی

کاکل پیچاں ہٹا کر رخ سے آؤ سامنے

پردہ دار حسن محفل میں ضیا ہو جائے گی

جب یہ سمجھوں گا کہ میری زیست ہے ممنون مرگ

موت میری زندگی کا آسرا ہو جائے گی

انتظار وصل کرنا عمر بھر ممکن تو ہے

گو نہیں معلوم حالت کیا سے کیا ہو جائے گی

محتسب اور ہم ہیں دونوں متفق اس باب میں

برملا جو مے کشی ہو بے ریا ہو جائے گی

میں ابھی سے جان دے دوں گا جو راہ عشق میں

انتہا مجنوں کی میری ابتدا ہو جائے گی

فاش راز دل نہیں کرتا مگر یہ ڈر تو ہے

بے خودی میں آہ لب سے آشنا ہو جائے گی

باریاب خواب گاہ ناز ہونے دو اسے

ان کی زلفوں میں پریشاں خود صبا ہو جائے گی

مقصد الفت کو کر لو پہلے شیداؔ دل نشیں

ورنہ ہر آہ و فغاں بے مدعا ہو جائے گی