Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

درد وہ تو نے دیا جس کا مداوا نہ ہوا

نشتر چھپروی

درد وہ تو نے دیا جس کا مداوا نہ ہوا

تیرا بیمار مسیحا سے بھی اچھا نہ ہوا

آپ ہی کہئے کہ یہ غمزۂ بیجا نہ ہوا

مجھ سے پردہ ہوا اور غیر سے پردا نہ ہوا

بے مروت نہ سہی آپ مگر یہ کیا ہے

مجھ سے پردہ ہوا اور غیر سے پردا نہ ہوا

آپ کی شرم بھی دنیا سے نرالی نکلی

مجھ سے پردہ ہوا اور غیر سے پردا نہ ہوا

تو تڑپ اپنی دکھانے تو چلا ہے اے دل

اور وہ شوخ اگر محو تماشا نہ ہوا

دیکھتے ہی مجھے برسانا یہ پتھر کیسا

تیرا عاشق نہ ہوا میں کوئی دیوانہ ہوا

وہ شب وصل بھی آئے تو چڑھائے تیور

بخت برگشتہ مرا آج بھی سیدھا نہ ہوا

میرے حصے کا نہ ساقی نے بھرا جام اب تک

اور لبریز یہاں عمر کا پیمانہ ہوا

حور ہو اس بت رعنا کے مقابل توبہ

واعظو تم کو عطا دیدۂ بینا نہ ہوا

ہنس پڑا چپکے سے وہ غنچہ دہن کچھ کہہ کر

ایسا یہ وصل کا وعدہ ہوا گویا نہ ہوا

حیف صد حیف کہ رحم آ ہی گیا قاتل کو

نہ ہوا شوق شہادت مرا پورا نہ ہوا

ہاتھ آیا نہ کبھی وہ گل نخل خوبی

کبھی سرسبز مرا باغ تمنا نہ ہوا

قابل ذکر تھی کس دن نہ مری رسوائی

یار کی بزم میں کس دن مرا چرچا نہ ہوا

بخت چمکا نہ کبھی میرے سیہ خانے کا

میرا مہمان کبھی وہ بت رعنا نہ ہوا

آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا مرے لاشے کی طرف

اس ستم گر سے اتنا بھی تو دیکھا نہ ہوا

چشم ساقی کا تصور ہوا رہبر میرا

جب روانہ کبھی میں جانب مے خانہ ہوا

سخت جانی نے مری مجھ کو کیا کیا نادم

حوصلہ یار کی تلوار کا پورا نہ ہوا

لاکھ مارا کیا سر خنجر قاتل نشترؔ

سخت جانی کا مری بال بھی بیکا نہ ہوا