Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

درس محبت

علی منظور حیدرآبادی

دوست ملا تھا تجھ کو کیسا حیف اتنا بھی یاد نہیں

جان فدا کرتا تھا جس پر دل میں اس کی یاد نہیں

گردش دوراں نے جب اس کو آہ شکستہ حال کیا

دیکھ کر اس کے حال زبوں کو تو نے کچھ نہ ملال کیا

کون شکستہ حال کہاں ہے یہ بھی دھیان آیا نہ تجھے

آہ تصور نے ایسے محسن کے تڑپایا نہ تجھے

پاس تھا اپنے قول کا جس کو تو نے کچھ اس کا پاس کیا

آمد و رفت دیرینہ کا بھول کے بھی احساس کیا

اس کے درد سے واقف ہو کر تو نے خبر کیا لی اس کی

قرض محبت جان کے دل سے کیا کوئی خدمت کی اس کی

دل تیرے اس دوست کا ناحق وقف سحر لسانی تھا

میری سمجھ میں اب آیا وہ جمع و خرچ زبانی تھا

ناداں انسان تیری دولت تیرے ساتھ نہ جائے گی

لیلائے مطلب دور رہے گی تیرے پاس نہ آئے گی

حصر فقط تجھ ہی پر کیا ہے تو ہی اک زر دوست نہیں

دوست بہت ملتے ہیں لیکن ان میں اکثر دوست نہیں

دوست نہیں جو نام کی خاطر اپنے دوست کے کام آئے

دوست وہ ہے لوگوں کی زباں پر جس کا مثالاً نام آئے