Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

آریوں کی پہلی آمد ہندوستان میں

وحید الدین سلیم

وہ دیکھ کہ موجیں رقص کناں ہیں سطح زمیں پر گنگا کی

نو وارد آریہ حیرت میں ہیں دیکھ کے شان اس دریا کی

گنگوتری سے آتی ہے چلی اٹھکھیلیاں کرتی دھار اس کی

آزادی ہے تیور سے عیاں متوالی ہے رفتار اس کی

اتر کی طرف جب اٹھتی ہے اس قافلۂ مغرب کی نظر

پڑتی ہوئی کرنیں سورج کی ہیں دیکھتے برف کے تودوں پر

ہر قلۂ کوہ ہمالیہ پر عظمت کے ہیں بادل چھائے ہوئے

سینوں کو ہیں تانے دیو کھڑے امبر سے سروں کو ملائے

برگد کے درختوں سے جنگل پھیلے ہیں پہاڑ کے دامن میں

شاخیں ہیں جو ان کی سایہ فگن ظلمت کا سماں ہے ہر بن میں

پھرتے ہیں وہ فیل مست یہاں ہے دیو کا جن کے قد پہ گماں

یہ کالی گھٹا جب دوڑتی ہے آتا ہے نظر ہیبت کا سماں

ہیں رنگ برنگ کے پھول کھلے زینت ہے چمن کے شباب ان کا

کھولا ہے نسیم سحر نے ابھی کس شان سے بند نقاب ان کا

آتے ہیں مسافر ہند میں جو خیبر کے دروں سے اتر کے ابھی

دیکھے تھے انہوں نے لالہ و گل پامیر کی وادی میں نہ کبھی

طائر بھی یہاں پیدا ہیں کیے قدرت نے عجب گل رنگ و حسیں

گر زمزمے ان کی روشنی سن لیں یاد آئے انہیں فردوس بریں

اندر کے اکھاڑے کی پریاں گاتی ہیں جو دلکش راگنیاں

یہ لوچ سروں میں ان کے نہیں یہ سوز گلوں میں ان کے کہاں

سورج کی چمکتی ہوئی کرنیں ہیں چھیڑتی ٹھنڈی ہواؤں کو

بھر دیتی ہیں نور و حرارت سے باغوں کو اور ان کی فضاؤں کو

سوتی ہوئی سوتیں چشموں کی اٹھتی ہیں سب آنکھیں مل مل کر

دھاریں ہیں جو برف کے پانی کی آتی ہیں پہاڑوں سے چل کر

اے آریوں قدم رکھو ان حسن بھرے گلزاروں میں

جنت کے مزے لوٹو گے سدا اس پاک زمیں کی بہاروں میں

تم گنگ و جمن کے کناروں پر شہر اپنے نئے آباد کرو

گا گا کے بھجن کر کر کے ہون ہو جاؤ مگن دل شاد کرو