Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

دعوت نظر

علی منظور حیدرآبادی

میں ہی میں ہوں کوئی ہشیار کہے جاتا ہے

وہ ہی وہ ہیں کوئی سرشار کہے جاتا ہے

ہمہ اوست اس کی خودی کے لئے مرکز اے دوست

اس کا نادان انا بھی ہے متاع ہمہ اوست

ہوش افزا ہے مجھے غلغلۂ ہشیاری

کاش سمجھے اسے تو بھی جرس بیداری

انحصار من و تو ٹھیک نہیں سب سمجھیں

وقت ہے خود کو سمجھنے کا یہی اب سمجھیں

خود شناسی سے ہے امید کہ بن جائے گا کام

ورنہ اس حال زبوں کا ہے تباہی انجام

نہ بصارت نہ بصیرت نہ عزیمت ہم میں

کام کرنے کی نہیں نام کو ہمت ہم میں

اک خودی تھی سو کیا اس کو بھی غفلت کے سپرد

زندگی کی ہوئی یہ لہر بھی یوں دریا برد

اس طرف دیکھ فریسان اروپا کی نمود

آج بالفعل جو ثابت ہے وہ ان کا ہے وجود

راز تقدیر کھلا ان کے عمل سے ان پر

اپنے در پے ہے فقط بے عملی کا چکر

حسن کاری کا مذاق ان سے ہوا آئینہ

نئی دنیا کا یہ منظر ہے نیا آئینہ

ایسی وحدت پہ نہ ہو کس لئے کثرت شیدا

ایک منزل سے ہیں ہفتا و منازل پیدا

ان کی دنیا ہے نئی اپنی پرانی دنیا

بن گئی اپنے لئے رام کہانی دنیا

اور باتوں میں تو کیا خاک ملے گی جدت

جب زباں میں بھی گوارا نہیں کوئی جدت

چشم براہ نظر آتے ہیں وہ نقد نگار

جن کی فطرت کو اپج سے نہیں بالکل سروکار

نئی ترکیب اگر ان کو کہیں مل جائے

برہم اتنے ہوں کہ پامال زمیں ہل جائے

پھر یہ ہیں اور ادب سوز مداراتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں