Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

دوست جب دل سا آشنا ہی نہیں

عیش دہلوی

دوست جب دل سا آشنا ہی نہیں

اب ہمیں غیر کا گلہ ہی نہیں

جس کا دل درد آشنا ہی نہیں

اس کے جینے کا کچھ مزا ہی نہیں

ایک دم ہم سے وہ جدا ہی نہیں

گر جدا ہو تو وہ خدا ہی نہیں

آشنائی پہ اس کی مت جانا

لے کے دل پھر وہ آشنا ہی نہیں

خاک چھانی جہان کی لیکن

دل گم گشتہ کا پتا ہی نہیں

لاکھ معشوق ہیں جہاں میں مگر

آہ وہ ناز وہ ادا ہی نہیں

سعی بے فائدہ ہے چارہ گرو

مرض عشق کی دوا ہی نہیں

درد دل ان سے ہم کہا ہی کیے

پر انہوں نے کبھی سنا ہی نہیں

سر پھراتا ہے کیوں عبث ناصح

میرا کہنے میں دل رہا ہی نہیں

اب وہ آئے تو آئیں کیا حاصل

طاقت عرض مدعا ہی نہیں

میں تو کیا گوش چرخ نے بھی عیشؔ

ایسا بیداد گر سنا ہی نہیں