Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

رات اس تنک مزاج سے کچھ بات بڑھ گئی

بیاں احسن اللہ خان

رات اس تنک مزاج سے کچھ بات بڑھ گئی

وہ روٹھ کر گیا تو غضب رات بڑھ گئی

یہ کہیو ہم نشیں مجھے کیا کیا نہ کہہ گئے

میں گھٹ گیا نہ آپ کی کچھ ذات بڑھ گئی

بوسے کے نام ہی پہ لگے کاٹنے زباں

کتنی عمل سے آگے مکافات بڑھ گئی

چشموں سے میرے شہر میں طوفان گریہ ہے

نادان جانتے ہیں کہ برسات بڑھ گئی

سمجھا تھا میں کمر ہی تلک زلف کا کمال

وہ پانو سے بھی آگے کئی ہات بڑھ گئی

اغیار سے نہیں ہے سروکار یار کو

میرے بہ رغم ان پہ عنایات بڑھ گئی

بے طوریوں سے اس کی بیاںؔ میں تو کھنچ رہا

غیروں کی اس کے ساتھ ملاقات بڑھ گئی