Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ذرا سوچ کر اے جفا کرنے والے

بیتاب عظیم آبادی

ذرا سوچ کر اے جفا کرنے والے

کہیں جی نہ چھوڑیں وفا کرنے والے

گلہ کچھ نہیں مجھ کو واعظ سے لیکن

یہ کون آپ کا تذکرہ کرنے والے

گھمنڈ ان کو اللہ رے اتنا جفا کا

تو کیا مر گئے اب وفا کرنے والے

بڑے بے مروت بڑے بے وفا ہو

ہمیشہ بہانہ نیا کرنے والے

گلی میں تری سر بکف ہو کے آئیں

کہاں ہیں مرا سامنا کرنے والے

وہ بے باک چتون یہی کہہ رہی ہے

کسی سے نہیں ہم وفا کرنے والے

شہیدان الفت نہ خوش ہوں تڑپ کر

وہ اس پر نہیں اعتنا کرنے والے

یہ کہتا ہے پروانے کا جل کے مرنا

وفا کرتے ہیں یوں وفا کرنے والے

سمجھتے ہیں آساں ابھی ان کا ملنا

بہت دور ہیں حوصلہ کرنے والے

نقاب ان کی جس وقت سرکے گی رخ سے

قیامت کریں گے حیا کرنے والے

دم نزع آخر نکل آئے آنسو

کہاں جا کے چوکے وفا کرنے والے

زباں پر مری راز دل اب تو آیا

مری شرم رکھ لے حیا کرنے والے

دوا سے تو بیمار کچھ اور الجھا

مرض ہی نہ سمجھے دوا کرنے والے

خموشی مری لاش کی کہہ رہی ہے

جفا سہتے ہیں یوں وفا کرنے والے

گدا کون بیتاب سا اس گلی میں

ہیں یوں تو بہت سے صدا کرنے والے