Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

دیتا ہے مجھ کو چرخ کہن بار بار داغ

رنجور عظیم آبادی

دیتا ہے مجھ کو چرخ کہن بار بار داغ

اف ایک میرا سینہ ہے اس پر ہزار داغ

دیتے ہیں میرے سینے میں کیا ہی بہار داغ

کھائے نہ ان کو دیکھ کے کیوں لالہ زار داغ

لالہ کرے گا دل کی مرے کیا برابری

اس پر ہے ایک داغ یہاں بے شمار داغ

دنیا کے سارے صدمے ہیں کم ہجر یار سے

دے مدعی کو بھی نہ یہ پروردگار داغ

رکھتا ہے عشق لالہ رخاں دل میں وہ نہاں

سینے پہ ماہتاب کے ہے آشکار داغ

ظلمت سے دی نجات دل داغ دار نے

روشن مثال شمع ہے زیر مزار داغ

ہر دم نہ کیوں لگائے رکھیں سینے سے اسے

اک ماہ رو کے عشق کی ہے یادگار داغ

قاتل مرے لہو نے بھی کیا گل کھلائے ہیں

دامن پہ تیرے دیتے ہیں کیا ہی بہار داغ

جو ظلم چاہے رکھ دل رنجورؔ پر روا

دے تو مگر اسے نہ جدائی کا یار داغ