Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

راز چشم مے گوں ہے کیف مدعا میرا

علی منظور حیدرآبادی

راز چشم مے گوں ہے کیف مدعا میرا

غیر کی نظر سے ہے دور میکدہ میرا

واسطے کی خوبی نے سہل منزلیں کر دیں

حسن عشق کا رہبر عشق رہنما میرا

کر دیا مجھے بے خود ان کی بے نیازی نے

کہہ رہا ہوں خود ان سے دل سنبھالنا میرا

ہائے خوف بدنامی وائے فکر ناکامی

بے وفا کے ہاتھوں میں حاصل وفا میرا

لطف خلوت و جلوت ہم نہ پا سکے لیکن

دھوم ہر طرف ان کی ذکر جا بہ جا میرا

طرز والہانہ کی داد کب ملی مجھ کو

ناز دوست کب نکلا صورت آشنا میرا

سوچنے لگے گی کچھ تیری خوش نگاہی بھی

رائیگاں نہ جائے گا یوں ہی دیکھنا میرا

میں نے جب کبھی دیکھا سر جھکا لیا تو نے

تو نے جب کبھی دیکھا دل تڑپ گیا میرا

عشرت حجاب از خود چارہ ساز دل کیا ہو

ساز ہو جب اے ظالم سوز آشنا میرا

میری خستہ حالی نے سعیٔ خود شناسی کی

ان کی خود نمائی نے جب کیا گلہ میرا

ہے جو حضرت منظورؔ اعتبار ایں و آں

اذن بے خودی لے کر پوچھئے پتا میرا