Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

رات کی بات

مختار صدیقی

چوڑیاں بجتی ہیں چھاگل کی صدا آتی ہے

فرط بیتابی سے اٹھ اٹھ کے نظر بیٹھ گئی

تھام کر آس ہر آہٹ پہ جگر بیٹھ گئی

میرا غم خانہ عبارت رہا تاریکی سے

موج مہتاب کہاں خاک بہ سر بیٹھ گئی

شبنم آلود ہوا جاتا ہے شب کا داماں

تارے چمکے ہیں کہ اب گرد سفر بیٹھ گئی

بھیگتی رات نہا کر مرے اشک خوں میں

جانے کو اٹھی ہی تھی اٹھ کے مگر بیٹھ گئی

اس نے دیکھا کہ مری رانی لجاتی آئی

آنکھیں ملتی ہوئی فتنوں کو جگاتی آئی

سر سے ڈھلکا ہوا آنچل شکن آلود لباس

چھڑی آنکھوں میں مچلتی ہوئی نیندوں کی جھلک

سو گئی تھی ذرا خود سب کو سلاتے شاید

نیند کچی تھی کہ دی وعدے نے دل پر دستک

چونک کر اٹھی تو دیکھا کہ ستارے بن کر

اوج افلاک پہ ہے مانگ کی افشاں کی دمک

شیشۂ مہ سے چھلک کر مئے تند و بے درد

اس کے ماتھے سے چرا لیتی ہے سونے کی ڈلک

چوڑیاں ہاتھوں میں تھامے چلی ہولے ہولے

کر دے غمازی مبادا کہیں چھاگل کی چھنک

سرخی ٹیکے کی جبیں پر ذرا پھیلی پھیلی

جس طرح جام سے کچھ تھوڑی سی مے جائے چھلک

"زلفیں یوں چہرے پہ بکھری ہوئی مانگیں تھیں دل

جس طرح ایک کھلونے پہ مٹیں دو بالک"

جس طرح غم خانے پہ پہنچی تو کچھ آیا جو خیال

چوڑیاں چھوڑ دیں چھاگل بھی ہنسی چھانا چھنک

فکر ہے آئی تو ہے نیند کی گوماتی ہے

چوڑیاں بجتی ہیں چھاگل کی صدا آتی ہے