Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

رخسار کو ہے زلف شکن در شکن سے ربط

سید امیر حسن بدر

رخسار کو ہے زلف شکن در شکن سے ربط

یعنی ہے شیخ کعبہ کو اب برہمن سے ربط

یوں ہی ہے مجھ کو اس بت پیماں شکن سے ربط

ہے چند روزہ روح کا جیسے بدن سے ربط

پھولوں کو جس طرح ہو بہار چمن سے ربط

یوں ہی تھا مجھ کو بھی کسی گل پیرہن سے ربط

رکھتا نہیں ہوں صرف حسین و حسن سے ربط

ہے مجھ کو چار یار سے اور پنجتن سے ربط

خوشیاں منائیں غیر نہ اس ارتباط پر

مجھ سے بھی تھا کبھی بت پیماں شکن سے ربط

حمد و ثنا میں تیری میں رطب الساں رہوں

جب تک رہے دہن میں زباں کو سخن سے ربط

رکھتا ہوں اس لئے میں غرال ختن سے ربط

ہم بھی کسی کے تیر نظر کے شکار تھے

ہم کو بھی تھا کبھی کسی ناوک فگن سے ربط

کس درجہ طول ہے شب تار فراق یار

شاید ہے اس کو زلف شکن در شکن سے ربط

تیر نظر سے دل کو نہ چھلنی بناؤ بدرؔ

اچھا نہیں ہے اس بت ناوک فگن سے ربط