Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

رسوائی

مختار صدیقی

ٹیکا لگاؤں مانگ بھی صندل سے بھر چکوں

دلہن بنوں تو چاہیے جوڑا سہاگ کا

مہندی رچے گی پوروں کہیں جا کے دیر میں

کنگھی کروں تو چڑھتی ہے کالوں کی اور لہر

افشاں ہے بخت بھی کہ رہا ان کے پھیر میں

کہتی ہے سانجھ بھور کے اب گھاٹ اتر چکوں

تم بیٹھو میں تو آئی پہ جی سے گزر چکوں

اتنے دنوں تو دل کی لگی نے خدائی کی

پائل بجے تو بنسی کی دھن ناچ ناچ اٹھے

بد نامیاں کرشمے مرے دیوتا کے ہیں

دیدے گھما گھما کے کہیں کیوں نہ گوپیاں

ان کے چلن تو بگڑے ہوئے ابتدا کے ہیں

بپتا نہ ہوگی کل سے لگائی بجھائی کی

دہکے شفق تو دہکے چتا جگ ہنسائی کی

چیخیں سن سن کے سبھی نیند کے ماتے جاگے

سامنے دہکی ہوئی آگ کا پیکر دیکھا

چل کے دو چار قدم پھر سے پلٹ کر جولاں

چیخیں شعلوں کے دہکنے پہ لپک اٹھتی تھیں

دود کے حلقے رواں ہوئے فلک چرخ زناں

سب یہ سمجھے کہ کوئی غول بیابانی ہے

یوں ہی لوکا جو لگانے کو نکل آیا یہاں

باد پا آگ تھی یا لال رسیلی ساڑی

چھایا کالوں کی تھی شعلوں کی زبانوں کا دھواں

یک بیک کندنی باہیں بھی اٹھیں چیخ کے ساتھ

کانپتے آئے نظر پھول سے مہندی بھرے ہاتھ

ایک نے بڑھ کے وہیں آگ پہ ڈالا پانی

آگ یوں پانی کی شہہ پائے تو دوزخ نہ بنے

جیتے جی اشکوں سے کیا دل کی لگی بجھتی تھی

آگ پانی میں لڑائی جو چتا پر بھی ٹھنے

خاک ڈالی تو ہوئیں پھر کہیں مدھم آنچیں

بخت رسوا ہو تو رسوائی بنا کیسے منے

پوچھو جلنے کی تو جانے وہی جس تن لاگے

چیخیں سن سن کے